چھن چھن
معنی
١ - روپے گھنگرو زیور قہقہہ اور لوہے کی زنجیر کی آواز۔ گیتوں کی چھن چھن ہنسی کی چھن چھن سرگرم ترنم ہیں نواسنج چھمن ( ١٩٧٥ء، پرواز عتاب، ٤٥ ) ٢ - کسی مائع کے قطروں کی آواز۔ "پارے کے گرتے ہوئے قطروں کی چھن چھن کی آواز سے معلوم ہو جاتا ہے" ( ١٩٢١ء، سکون سیالات، ٢٨٢ ) ٣ - شیشہ گرنے کی آواز، شیشہ ٹوٹنے کی آواز۔ "دوسری طرف سے چھن چھن چھن کا شور بلند ہوتا ہے جیسے شیشے توڑے جا رہے ہیں" ( ١٩٦١ء، فصیل شب، ٢٤٠ )
اشتقاق
اردو زبان میں اسم صوت 'چَھن' کی تکرار سے 'چَھن چَھن' بنا۔ سب سے پہلے ١٨٣٠ء کو "کلیات نظیر" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
٢ - کسی مائع کے قطروں کی آواز۔ "پارے کے گرتے ہوئے قطروں کی چھن چھن کی آواز سے معلوم ہو جاتا ہے" ( ١٩٢١ء، سکون سیالات، ٢٨٢ ) ٣ - شیشہ گرنے کی آواز، شیشہ ٹوٹنے کی آواز۔ "دوسری طرف سے چھن چھن چھن کا شور بلند ہوتا ہے جیسے شیشے توڑے جا رہے ہیں" ( ١٩٦١ء، فصیل شب، ٢٤٠ )